نئی دہلی،5 /جنوری(آئی این ایس انڈیا /ایس او نیوز) پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات سے پہلے یکم فروری کو مرکزی بجٹ پیش کئے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں نے آج الیکشن کمیشن کا رخ کیا اور کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ حکومت سے 8 /مارچ کو ہونے والے آخری مرحلے کی پولنگ تک اس سالانہ عمل کو ملتوی کرنے کی ہدایت دے۔اپوزیشن جماعتوں کے ایک وفد نے بجٹ کی پیشکش کو 8 /مارچ تک ملتوی کرنے کے لیے حکومت کو ہدایات دینے کے اپنے مطالبہ کو لے کر چیف الیکشن کمشنر نسیم زیدی سے ملاقات کی۔ اس وفد میں کانگریس، جنتا دل یو، بی ایس پی، ایس پی، ڈی ایم کے اور آر جے ڈی لیڈران شامل تھے۔واضح رہے کہ پنجاب اور گوا میں 4 /فروری کو انتخابات ہونے ہیں اور اتر پردیش اور منی پور میں آخری مرحلے کا انتخاب 8 /مارچ کو ہوگا۔راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما غلام نبی آزاد نے الیکشن کمشنر سے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں کو بتایاکہ 2012میں ان پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کو لے کر اپوزیشن جماعتوں کے اعتراض کے بعد کانگریس نے مرکزی بجٹ 28/فروری کے بجائے 16مارچ کو پیش کیا تھا، ہم چاہتے ہیں کہ انتخابات کے ختم ہونے تک بجٹ نہیں پیش کیا جانا چاہیے۔دوسرے کانگریسی لیڈرآنند شرما نے کہا کہ ماضی میں کسی بھی حکومت نے الیکشن کے درمیان میں بجٹ کا استعمال رائے دہندگان کو متاثر کرنے کے لیے نہیں کیا ہے۔آزاد نے کہا کہ الیکشن قانون واضح طور پر کہتا ہے کہ حکمران پارٹی کو انتخابات کے دوران کوئی فائدہ نہیں ملنا چاہیے اور حزب اختلاف اورحزب اقتدار دونوں کو یکساں حالت میں ہوناچاہیے۔کانگریس لیڈر آزاد نے کہا کہ یکم فروری کو بجٹ پیش کئے جانے سے توازن بی جے پی کی طرف جھک سکتا ہے کیونکہ وہ رعایت دے کر رائے دہندگان کو لبھانے کے لیے اس کا استعمال کر سکتی ہے۔چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کرنے والوں میں ترنمول کانگریس کے ڈیریک او برائن، بی ایس پی کے اے راجن، ایس پی (اکھلیش خیمہ)کے نریش اگروال، ڈی ایم کے ٹی شیوا اور جے ڈی یو کے سی تیاگی شامل تھے۔کمیشن کے ذرائع نے بتایا کہ اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے رکھی گئی باتوں پر حکومت کا موقف مانگا جا سکتا ہے۔اس مسئلے کو لے کر کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ یکم فروری کو بجٹ پیش کئے جانے کو لے کر اپوزیشن کے اعتراض پر غور کرے گا، وہیں مرکزی وزیر خزانہ نے یہ کہتے ہوئے اس قدم کا دفاع کیاہے کہ اپوزیشن پارٹی اس کو لے کر کیوں خوفزدہ ہیں جبکہ ان کا دعوی ہے کہ نوٹ بند ی بہت ہی غیر مقبول فیصلہ ہے۔بجٹ سیشن کو وقت سے پہلے بلائے جانے(31/جنوری سے شروع)کی مخالفت میں 16سیاسی پارٹیاں پہلے ہی صدر اور الیکشن کمیشن کو خط لکھ چکی ہیں۔